Jo Samjhoo Payar Mohabbat Ka Itna Afsana Hoota hai

April 22, 2007 on 1:00 am | In Tumhein Khonay Say Darta Hoon |

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے

کچھ آنکھیں پاگل ہوتی ہیں کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے

کیوں آنکھیں چوکھٹ پر رکھ کر تم دنیا بھول کے بیٹھے ہو

کب چھوڑ کے جانے والے کو پھر واپس آنا ہوتا ہے

جب پیار کسی سے کرتے ہو کیوں واعظ سے گھبراتے ہو

یہ بات ہی ایسی ہوتی ہے سب نے سمجھانا ہوتا ہے

یہ آنسو‘ شکوے‘ آہیں سب بے معنی سی زنجیریں ہیں

کب اِن کے باندھے رکتا ہے وہ جس کو جانا ہوتا ہے

میں تجھ کو کیسے بھولوں گا؟ تو مجھ کو کیسے بھولے گی؟

اک داغ سا باقی رہتا ہے جب زخم پرانا ہوتا ہے

کچھ لوگ تمہاری محفل میں چپ چاپ اکیلے بیٹھے ہیں

اُن کے چہرے پہ لکھا ہے جو پیار نبھانا ہوتا ہے

ہم اہلِ محبت کیا جانیں دنیا کی سیاست کو عاطف

کب ہاتھ ملانا ہوتا ہے کب ہاتھ چھڑانا ہوتا ہے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^